مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 27
أَنَّ الْخَطَاءَ فِي التَّاوِيْلِ مُوْجِبٌ لِلتَّكْفِيْرِ فَلَا بُدَّ مِنْ دَلِيْلٍ عَلَيْهِ وَثَبَتَ أَنَّ الْعَصْمَةَ مُسْتَفَادَةٌ مِنْ قَوْلِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ قَطْعًا فَلَا يُدْفَعُ ذَلِكَ إِلَّا بِقَاطِع وَهذَا الْقَدْرُ كَافٍ فِي التَّنْبِيْهِ عَلَى أَنَّ إِسْرَافَ مَنْ بَالَغَ فِي التَّكْفِيْرِ لَيْسَ عَنْ بُرْهَانِ فَإِنَّ الْبُرْهَانَ إِمَّا أَصْلٌ أَوْقَيَاسٌ عَلَى الْأَصْلِ وَالْأَصْلُ هُوَ التَّكْذِيْبُ الصَّرِيْحُ وَمَنْ لَيْسَ بِمُكَذِبِ فَلَيْسَ فِي مَعْنَى الْمُكَذِّبِ أَصْلًا فَيَبْقَى تَحْتَ عُمُوْمِ الْعَصْمَةِ بِكَلِمَة الشَّهَادَةِ الاقتصاد صفحه ۱۱۲) یعنی اس <mark>امر</mark> کی دلیل کہ ا<mark>نہی</mark>ں کا فر<mark>نہی</mark>ں کہنا چاہیئے یہ ہے کہ ہمارے نزدیک نص (شرعی) سے جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والا ہو وہ کافر ہوتا ہے۔اور یہ فرقے ( معتزلہ دمشھہ ) ہرگز رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکذب <mark>نہی</mark>ں۔اور ہمارے نزدیک یہ ثابت <mark>نہی</mark>ں کہ تاویل میں <mark>غلطی</mark> کھانا موجب تکفیر ہے۔اور یہ <mark>امر</mark> ثابت شدہ ہے کہ کلمہ طیبہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہنے سے انسان کو جان و مال کی حفاظت حاصل ہو جاتی ہے۔اور جب تک اس کے خلاف کوئی یقینی دلیل نہ ہو یہ حفاظت قائم رہے گی۔اور ہمارا اس قدر کہنا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ تکفیر میں حد سے تجاوز کرنے والے کا فعل <mark>کس</mark>ی دلیل پر بنی <mark>نہی</mark>ں کیونکہ دلیل یا اصلی ہوگی یا <mark>کس</mark>ی اصل پر قیاس ہوگی۔اور اصل اس بارہ میں صریح تکذیب (رسول) ہے۔اور جو مکذب نہ ہو وہ مکذب کے معنوں (حکم)