مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 26 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 26

مقام خاتم التنين امام غزالی علیہ الرحمتہ دوسروں کا نقل کر رہے ہیں اور خود اس جگہ اس عبارت سے پہلے یہ لکھ رہے ہیں کہ نبی اور رسول کا آنا چونکہ عقلاً محال نہیں اے اور آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی کی تاویل سے نبی اور رسول کی آمد کا قائل عاجز نہیں ہے۔ہوگالہذا ایسے شخص کی تردید میں صرف یہ بات رہ گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھایا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں اور اس میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں ہوسکتی۔اور زیادہ سے زیادہ اُسے اجماع کا منکر کہا جا سکتا ہے۔یعنی نص خاتم النبیین کا منکر نہیں قرار دیا جاسکتا۔کیونکہ امام غزالی اس پہلے لکھ چکے ہیں کہ اُن کے نزدیک اجماع حجت قاطعہ ہی نہیں۔ان کے نزدیک اجماع کے حجت ہونے میں بہت سے شبہات ہیں۔اور وہ نظام معتزلی کو بھی جو سرے سے اجماع کے وجود کا منکر ہے کا فرنہیں سمجھتے۔پس امام موصوف اس مقام پر تکفیر میں توقف نہ کرنے اور فور اما ول کو کا فرقراردے دینے کے رجحان کو دُور کرنا چاہتے ہیں۔اور ایسے لوگوں کو جو لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کے قائل ہوں، کا فر قرار دینے کا رجحان مٹانا چاہتے ہیں۔چنانچہ آپ مسلمانوں کے فرقوں معتزلہ اور مشتبہ کو تاویل کی وجہ سے کافر نہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:۔وَدَلِيْلُ الْمَنْعِ مِنْ تَكْفِيْرِهِمْ أَنَّ الثَّابِتَ عِنْدَنَا بِالنَّصِ تَكْفِيْرُ الْمُكَذِبِ لِلرَّسُوْلِ وَهَؤُلَاءِ لَيْسُوْا مُكَذِّبِيْنَ أَصْلًا وَلَمْ يُثْبِتْ لَنَا حاشیہ : فَإِنَّ الْعَقْلَ لَا يُحِيْلُهُ (اقتصاد صفحه ۱۱۳) حاشیہ : فلا يعجز هذا القائل عن تاويله خاتم النبيين (الاقتصاد صفحه ۱۱۳)