مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 25
۲۵ مقام خاتم النت نظام کو کا فرٹھہرانے میں بھی اعتراض ہے جو سرے سے اجماع کے وجود کا ہی منکر ہے۔کیونکہ اجماع کے قطعی حجت ہونے میں بہت سے شبہات ہیں۔مگر اس کے برخلاف مولوی خالد محمود صاحب امام غزالی علیہ الرحمہ پر یہ افتراء کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حجة الاسلام امام غزالی لفظ خاتم النبیین کے متعلق الاقتصاد میں ارشاد فرماتے ہیں إِنَّ الْأُمَّةَ فَهِمَتْ بِالْإِجْمَاعِ مِنْ هَذِهِ وَمِنْ قَرَائِنِ أَحْوَالِهِ أَنَّهُ أَفْهَمَ عَدْمَ نَبِيِّ بَعْدَهُ أَبَدًا وَعَدْمَ رَسُوْلٍ بَعْدَهُ أَبَدًا وَأَنَّهُ لَيْسَ فِيْهِ تَأْوِيْلٌ وَتَخْصِيص (الاقتصاد صفحه ۱۴۶) مولوی خالد محمود صاحب نے اس عبارت کو غلط طور پر امام غزالی علیہ الرحمۃ کا قول قرار دیتے ہوئے اس عبارت کا ترجمہ یہ لکھا ہے:۔امت نے اس لفظ خاتم النبیین اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال و قرائن سے اجماعی طور پر یہی سمجھا ہے کہ حضور نے یہی سمجھایا ہے کہ آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ کوئی رسُول۔اس مسئلہ ختم نبوت میں نہ کسی تاویل کی گنجائش ہے نہ کسی قسم کی کوئی تخصیص ہے۔“ ( عقيدة الامة صفحه ۱۵،۱۴) یہ قول امام غزالی علیہ الرحمۃ کا ارشاد قرار دے کر مولوی خالد محمود صاحب یہ تا قمر دینا چاہتے ہیں کہ امام غزالی اپنی طرف سے یہ کہ رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی اور رسول کی آمد کا عقیدہ چونکہ اجماع امت کے خلاف ہے اس لئے کفر ہے۔حالانکہ یہ قول