مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 24
۲۴ مقام خاتم الن نتين حضرت عیسی علیہ السلام کو ہی الگ الگ جہتوں سے مشتبہ اور مشتبہ یہ قرار دینے کی کوشش میشود ہے۔یہ بات مولوی خالد محمود صاحب کی درست <mark>نہی</mark>ں ہو سکتی کہ حضرت عیسی علیہ السلام الگ الگ جہتوں سے مشتبہ اور مشتبہ یہ ہوں گے۔کیونکہ یہ <mark>امر</mark> منطوق آیت کے صریح خلاف ہے آیت میں تو مشتبہ اور مشتبہ یہ خلفاء کو الگ الگ شخص قرار دیا گیا ہے۔یہ تو <mark>نہی</mark>ں کہا گیا کہ ایک شخص ایک جہت سے مشتبہ ہوگا اور دوسری جہت سے مشتبہ یہ کیونکہ ایمان لا کر اعمال صالحہ بجا لانے والوں کو مشتبہ قرار دیا گیا ہے اور امت <mark>محمد</mark>یہ سے پہلے گزرے ہوئے خلفاء کو مشبہ بہ۔مولوی خالد محمود صاحب کا حضرت امام غزائی پر افتراء حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ اپنی کتاب الاقتصاد فی الاعتقاد میں لکھتے ہیں:۔مَنْ أَنْكَرَوُجُوْدَ أَبِي بَكْرٍ وَخِلَافَتِهِ لَمْ يَلْزِمْ تَكْفِيْرُهُ لِأَنَّهُ لَيْسَ تَكْذِيْبًا فِي أَصْلٍ مِنْ أُصُولِ الدِّيْنِ مِمَّا يَجِبُ التَّصْدِيقُ بِهِ بِخِلَافِ الْحَجِّ وَالصَّلوةِ وَاَرْكَانِ الْإِسْلَامِ وَلَسْنَا نُكَفِّرُهُ لِمُخَالَفَةِ الْإِجْمَاعِ فَإِنَّ لَنَانَظُرًا فِي تَكْفِيْرِ النَّظَامِ الْمُنْكَرِ لِاصْلِ الْإِجْمَاعِ لِاَنَّ الشَّبْهَةَ كَثِيرَةٌ فِي كَوْنِ الْإِجْمَاعِ حُجَّةً قاطِعَة (الاقتصاد صفحه ۱۱۲ ۱۱۳) یعنی جو شخص ابوبکر کے وجود اور اُن کی خلافت کا انکار کرے اس کی تکفیر لازم <mark>نہی</mark>ں ہوگی۔کیونکہ یہ <mark>امر</mark> اُصولِ دین میں سے کوئی اصل <mark>نہی</mark>ں ہے جن کی تصدیق واجب ہے بخلاف حج ، نماز اور ارکانِ اسلام کے اور ہم ایسے شخص کی تکفیر اجماع کا مخالف ہونے کی بناء پر بھی <mark>نہی</mark>ں کریں گے کیونکہ ہمیں