مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 23
ترجمه مقام خاتم انا اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایمان لا کر اعمالِ صالحہ بجالانے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُن لوگوں کو خلیفہ بنایا جواُن سے پہلے گزر چکے ہیں۔اس آیت سے دو باتیں ثابت ہیں:۔اوّل یہ کہ آئندہ خُلفاء اُن لوگوں میں سے ہوں گے جو پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اعمالِ صالحہ بجالائیں۔یعنی صرف اُمت محمدیہ کے افراد ہی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے خلافت ملنے کا وعدہ ہے دوم یہ کہ ایسے خلفاء کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی نہ کسی پہلے خلیفہ کا مثیل ہوں۔پس ان دونوں باتوں کی وجہ سے امت محمدیہ کا کوئی فرد تو حضرت عیسی کے مشابہ اور ان کا مثیل ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کا خلیفہ ہو سکتا ہے۔لیکن پہلے گزرے ہوئے خلفاء میں سے حضرت عیسی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین اور خلیفہ نہیں ہو سکتے۔کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام خود ہی مشتبہ ہوں اور خود ہی مُشتبہ یہ۔اس کے تو یہ معنی ہوئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام حضرت عیسی علیہ السلام کے مشابہ ہوں گے۔اب دیکھئے یہ امر کیسا مضحکہ خیز ہے۔مگر مولوی خالد محمود صاحب یہی کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السّلام خود ہی مُشتبہ ہوں گے اور خود ہی مشتبہ بہ۔حالانکہ مشتبہ ہمیشہ مشتبہ یہ کا غیر ہوتا ہے۔جب یہ آیت بتا رہی ہے کہ مشبہ خلفاء امت محمدیہ کے افراد ہیں جو ایمان لا کر اعمالِ صالحہ بجالائیں گے۔اور مشتبہ یہ امت محمدیہ سے پہلے گزرے ہوئے خلفاء ہیں تو پھر