مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 22 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 22

۲۲ مقام خاتم النی نتبيين پس خدا تعالیٰ کے پیشگوئی پر مشتمل قول کا وہی مفہوم درست قرارد یا جاسکتا ہے جس کی اس کا فعل تائید کرے یا قبل از ظہور نصوص صریحہ کے قطعیہ اس کی تائید میں ہوں حضرت عیسی علیہ السلام کا اصالتا دوبارہ آنا قرآن مجید کی نصوص صریحہ کے خلاف ہے اور اُن کی وفات قرآنی آیات سے روز روشن کی طرح ثابت ہے۔اور اگر بالفرض وہ زندہ بھی ہوں تو اُن کا مستقلہ نبوت کے ساتھ آنا کسی عالم دین کو بھی مسلم نہیں۔کیونکہ مستقلہ نبوت ختم نبوت کے منافی ہے۔اور حضرت عیسی علیہ اسلام کا امتی نبی کی حیثیت میں آنا اُن کی پہلی نبوت میں تغیر ہونے کوستلزم ہے۔اور نئی قسم کی نبوت کے حدوث پر روشن دلیل ہے۔اور یہ امر پہلی نبوت کے سلب کو مستلزم ہے جو محال ہے۔لہذا حضرت عیسی علیہ السلام کا رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد اصالتا آناکسی طرح بھی جائز نہیں بلکہ ستلزم محال ہونے کی وجہ سے محال ہے۔آیت استخلاف حضرت عیسی علیہ السلام کے اصالتا آنے میں روک ہے احادیث نبویہ مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی اور آپ کا خلیفہ قرار دیتی ہیں۔اور قرآن مجید کا فیصلہ ہے کہ کوئی پہلا نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آیت استخلاف میں فرمایا ہے:۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ (سُوره نورع ۷ آیت ۵۶)