مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 8
۴۸ مقام خاتم انبیر اس آیت سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو صلیبی موت سے تدبیر کے ذریعہ بچایا ہے۔آسمان پر زندہ اُٹھا لینا تو معجزہ نمائی ہے۔اُسے تدبیر قرار نہیں دیا جا سکتا۔تدبیر وہ امر ہوتا ہے جس کا مقابلہ دوسرا شخص تدبیر سے کر سکے۔پس اگر یہ کہا جائے کہ یہودیوں کی تدبیر کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اُٹھا لیا تو یہ قدرت نمائی تو کہلا سکتی ہے تدبیر نہیں کہلا سکتی۔پس قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیبی موت سے بچا کر انہیں دشمن کے ہاتھوں سے نکال کر ہجرت کرا دی۔اور پھر کامیاب زندگی گزارنے کے بعد باعزت طریق سے وفات دی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔وَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ (انفال - آیت ۳۱) یعنی لوگ آپ کے خلاف قتل کی تدبیر کر رہے ہیں اور اللہ بھی تدبیر کر رہا ہے۔اور اللہ تد بیر کرنے والوں میں سے بہتر تد بیر کرنے والا ہے۔چنانچہ خدائی تدبیر کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن آپ کو قتل کرنے پر قادر نہ ہو سکے۔اور خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرادی۔حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ کی ہجرت کا ذکر قرآن کریم میں ان الفاظ میں آیا ہے:۔جَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمُّهُ آيَةً وَّاوَيْنَهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ (سورۃ مؤمنون آیت ۵۱)