مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 248
نتين مقام خاتم النبیر آیت کے یہ معنے کئے جائیں کہ خدا تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے صرف ظاہری طور پر نبیوں کے ساتھ ہوں گے نبی نہیں ہوں گے تو یہی تشریح دوسرے تین مدارج کے بارے میں بھی کرنی پڑے گی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیر وصرف بظاہر صدیقوں۔شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ہوں گے۔خود صدیق۔شہید اور صالح نہیں ہوں گے، یہ تشریح صحیح نہیں۔کیونکہ یہ معنی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی شان بزرگ کے صریح منافی ہیں کہ ان کی پیروی سے کوئی شخص صدیق۔شہید اور صالح بھی نہیں ہوسکتا۔بلکہ صرف ظاہری طور پر ان کے ساتھ ہوگا۔حالانکہ اُمت محمدیہ کے اطاعت کرنے والوں کا اس دنیا میں زمانی اور مکانی طور پر پہلے انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہونا محال امر ہے۔اور آیت فَأُولئِکَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ جملہ اسمیہ ہے جو استمرار پر دلالت کرتا ہے یعنی اس دُنیا میں ان کے ساتھ ہونا بھی ثابت کرتا ہے۔پس اس دُنیا میں ساتھ ہونے میں مرتبہ پانا ہی مُراد ہوسکتا ہے۔-ي اس کے بعد میں نے لکھا تھا:۔راغب علیہ الرحمہ کی تفسیر ہمارے انہیں معنوں کی تائید امام راغب علیہ الرحمہ کی تفسیر سے بھی ہوتی ہے۔تفسیر بحر المحیط میں امام راغب کی تفسیر جو ان الفاظ میں پیش کی گئی ہے کہ " وَالظَّاهِرُ أَنَّ قَوْلَهُ مِنَ النَّبِيِّينَ تَفْسِيْرٌ لِلَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَكَأَنَّهُ قِيْلَ مَنْ يُطِعِ اللهَ وَالرَّسُوْلَ مِنْكُمْ الْحَقَهُ اللَّهُ بِالَّذِيْنَ