مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 240
۲۴۰ م خاتم است کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوگا جسے خدا تعالیٰ شریعت دے کر لوگوں کی طرف مامور کرے۔حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمۃ یہ بھی تحریر فرماتے ہیں:۔" امْتَنَعَ أَنْ يَكُوْنَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ مُسْتَقِلْ بِالتَّلَقِي۔“ (الخير الكثير صفحه ۸۰) ترجمہ: یہ امر متنع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مستقل کے بعد با تلقی ہو۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی مستقل نبی نہیں آسکتا۔امت محمدیہ میں نازل ہونے والے مسیح موعود کی شان اور مرتبہ وہ یہ بیان فرماتے ہیں:۔" حَقٌّ لَهُ أَنْ يَنْعَكِسَ فِيْهِ أَنْوَارُ سَيّدِ الْمُرْسَلِيْنَ۔“ یعنی مسیح موعود کا حق یہ ہے کہ اس میں سید المرسلین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار منعکس ہوں۔گویا مسیح موعود کی نبوت عکسی یعنی ظلتی ہوگی نہ کہ اصالتا۔یعنی مسیح موعود مستقل نبی نہ ہوگا۔ہاں وہ ہوگا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل ظل و بروز بلکہ آپ ہی کا دوسرا نسخہ۔چنانچہ اُوپر کے بیان کے آگے تحریر فرماتے ہیں:۔يَزْعَمُ الْعَامَّةُ أَنَّهُ إِذَا نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ كَانَ وَاحِدًا مِّنَ الْأُمَّةِ كَلَّا بَلْ هُوَ شَرْحٌ لِلِاسْمِ الْجَامِعِ الْمُحَمَّدِي وَنُسْخَةٌ مُنتَسِخَةٌ مِنْهُ فَشَتَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ وَاحِدٍ مِنَ الْأُمَّةِ۔“ (الخير الكثير صفحه ۷۲ مطبوعہ بجنور مدینہ پریس)