مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 238 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 238

۲۳۸ اس شعر کے متعلق مولوی خالد محمود <mark>صاحب</mark> لکھتے ہیں:۔مقام خاتم انا ”یہاں منصب <mark><mark>نبوت</mark></mark> کا حصول نہیں کمالات <mark><mark>نبوت</mark></mark> کا حصول مراد ہے۔“ ( عقیدۃ الامۃ صفحه ۱۱۲) الجواب: مولانا روم تو امت کے اندر <mark><mark>نبوت</mark></mark> ملنے کا ذکر فرمارہے ہیں۔مگر خالد محمود <mark>صاحب</mark> اس کا نام کمالات <mark><mark>نبوت</mark></mark> رکھتے ہیں۔چونکہ <mark><mark>نبوت</mark></mark> سے مراد <mark><mark>نبوت</mark></mark> نہ لینے میں وہ اپنی تشریح کی خامی کو خود محسوس کر رہے تھے۔اس خامی کو پورا کرنے کے لئے لکھتے ہیں:۔اگر اس میں کچھ اجمال ہے تو اس کی تفصیل مولا نا روم کے مذکورہ بالا عقیدہ ختم <mark><mark>نبوت</mark></mark> کی روشنی میں کی جائے گی۔“ ( عقيدة الامت صفحه ۱۱۲) حالانکہ اس شعر میں کوئی اجمال نہیں بلکہ اس میں صریح طور پر <mark><mark>نبوت</mark></mark> ملنے کا ذکر ہے اور یہ بات ان کی خاتم ال<mark>نبی</mark>ین کی اس تشریح کے مطابق ہے جو اُن کے اُوپر کے اشعار میں درج ہے۔خالد محمود <mark>صاحب</mark> نے مولانا روم کا بطور تشریح یہ شعر درج کیا ہے:۔یا رسول الله رسالت را تمام تو نمودی ہمچو شمس بے غمام اس کا ترجمہ خود خالد محمود <mark>صاحب</mark> نے یہ کیا ہے:۔”اے اللہ کے رسول آپ نے رسالت کو اس طرح شرف بخشا ہے جیسے بادل کے بغیر سُورج چمک رہا ہو۔“ ( عقیدۃ الامۃ صفحه ۱۱۲) یہ ترجمہ درست ہے مگر اس سے تو صرف یہ ثابت ہو رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے