مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 3
(r) مقام خاتم النب جانا کر لی۔حالانکہ توفی اور اس کے مشتقات محاورہ زبان عربی میں خدا تعالیٰ کے فاعل اور انسان کے مفعول ہونے کی صورت میں ہمیشہ قبض روح کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں نہ کر قبض الروح مع الجسم کے معنوں میں تفسیر فتح البیان میں مفسرین کی اس تاویل کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے:۔إِنَّمَا احْتَاجَ الْمُفَسِّرُوْنَ إِلَى تَأْوِيْلِ الْوَفَاةِ بِمَا ذُكِرَ لَانَّ الصَّحِيحَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى رَفَعَهُ إِلَى السَّمَاءِ مِنْ غَيْرِ وَفَاةٍ كَمَا رَجَعَهُ كَثِيرٌ مِنَ الْمُفَسِرِيْنَ وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرِ الطَّبْرِيُّ۔وَوَجْهُ ذَلِكَ أَنَّهُ قَدْصَيَّ فِي الْأَخْبَارِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ترجمه نُزُوْلُهُ وَقَتْلُهُ الدَّجَّالَ۔(فتح البیان جلد ۲ صفحه ۴۹) بے شک مفسرین نے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کی نص کی مذکورہ تاویل اس لئے کی ہے کہ یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمان کی طرف وفات کے بغیر اُٹھالیا۔جیسا کہ اکثر مفسرین نے اس بات کو ترجیح دی ہے اور ابن جریر طبری نے اسے اختیار کیا ہے اور وجہ اس کے اختیار کرنے کی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح پیشنگوئیوں میں اس کے نزول اور قتل دجال کا ذکر آیا ہے۔پس مسیح کے آسمان پر زندہ اُٹھایا جانے کی تاویل ابن جریرطبری کی ایجاد ہے جومحض ایک مؤرخ اور مفسر ہے۔اور اس کی نقل میں باقی علماء نے اس عقیدہ کو بلاسوچے سمجھے اختیار