مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 2 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 2

نیز فرمایا:۔مقام خاتم انا أَنْتَ أَشَدُّ مُنَاسَبَةٌ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاشْبَهُ النَّاسِ بِهِ خُلُقًا وَخَلْقًا وَزَمَانًا ، (ازالہ اوہام صفحه ۱۲۴) یعنی تو عیسی بن مریم سے سب سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور تو خُلق اور خلقت اور زمانہ کے لحاظ سے سب لوگوں سے بڑھ کر اُس کے مشابہ ہے۔پس حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السّلام کے ان الہامات نے احادیث نبویہ کی اُس پیشگوئی کو حل کر دیا ہے جو صیح بخاری میں ان الفاظ میں موجود ہے:۔كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَانَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور جو صحیح مسلم میں ان الفاظ میں مروی ہے:۔كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَانَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ فَامَّكُمْ مِنْكُمْ ان احادیث میں مسیح موعود کو مجاز اور استعارہ کے طور پر ابن مریم کا نام دیا گیا ہے۔کیونکہ اسے امت محمدیہ کا ایک فرد بیان فرما کر اُمت کا امام قرار دیا گیا ہے۔امــامـکـم مـنـكـم اور فامکم منکم کے الفاظ بطور قرینہ لفظیہ لائے گئے تھے۔مگر اجتہادی غلطی سے کئی علمائے امت نے ابنِ مریم کے نزول سے مراد اصالتا حضرت عیسی علیہ السلام کا دوبارہ آنا سمجھ لیا۔کیونکہ عیسائیوں نے مسلمانوں میں حضرت عیسی کے زندہ آسمان پر اُٹھائے جانے اور ان کے اصالتا دوبارہ نازل ہونے کا عقیدہ پھیلا رکھا تھا۔اسی غلطی کی وجہ سے مفسرین نے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے متعلق صریح الدلالت قرآنی الفاظ مُتَوَفِّیک اور تَوَفَّيْتَنِی کی تاویل آسمان پر زندہ معہ روح جسم اُٹھایا