مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 215
(۲۱۵) مقام خاتم انا نبوت کی بندش کے متعلق ان کا عقیدہ یہ ہے:۔" إِعْلَمْ أَنَّ مُطْلَقَ النُّبُوَّةِ لَمْ تَرْتَفِعُ وَإِنَّمَا ارْتَفَعَتْ نُبُوَّةُ التَّشْرِيع۔“ الیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحه ۳۵ و صفحه ۳۹ بلحاظ ایڈیشن مختلفه ) ترجمہ: جان لو کہ مطلق نبوت بند نہیں ہوئی۔صرف تشریعی نبوت بند ہوئی ہے۔پھر وہ حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی کی تشریح میں لکھتے ہیں:۔" وَقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا رَسُوْلَ أَيْ مَا ثَمَّ مَنْ يُشَرِّعُ بَعْدِي شَرِيْعَةً خَاصَّةً۔،، (الیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحہ ۳۵) ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول لا نبــی بـعـدى ولا رسول سے مراد یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص شریعت خاصہ کے ساتھ تشریعی نبی نہیں ہوگا۔نبوت کی تقسیم امام موصوف نبوت کی دو قسمیں تشریعی اور غیر تشریعی قرار دے کر لکھتے ہیں:۔” تَنْقَسِمُ النُّبُوَّةُ الْبَشَرِيَّةُ عَلى قِسْمَيْنِ الْأَوَّلُ مِنَ اللَّهِ إِلَى غَيْرِهِ مِنْ غَيْرِ رُوْحِ مَلَكِي بَيْنَ اللَّهِ وَ بَيْنَ عَبْدِهِ بَلْ أَخْبَارَاتُ الهَيَّةٌ يَجِدُهَا فِيْ نَفْسِهِ مِنَ الْغَيْبِ أَوْ فِي تَجَلِّيَاتٍ وَلَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ