مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 208 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 208

ال<mark>نبی</mark> کا نام زائل ہونے کی وجہ شیخ اکبر علیہ الرحمہ کے بعض اقوال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مقام <mark>خاتم</mark> انا " لَا يُطْلَقُ اِسْمُ النُّبُوَّةِ وَلَا النَّبِيِّ إِلَّا عَلَى الْمُشَرِّعِ خَاصَّةً 66 فَحُجرَ هَذَا الْاِسْمُ لِخُصُوْصِ وَصْفِ مُعَيِّنِ فِى النَّبُوَّةِ۔“ ترجمہ: النُّبُوَّةُ اور النَّبِی کا نام خاص طور پر صرف شریعت لانے والے کو دیا جاتا ہے۔کونکہ شریعت کالا نا نبوت کا ایک خاص معین وصف ہے۔یعنی شریعت غیر <mark>نبی</mark> کو نہیں ملتی۔شیخ اکبر علیہ الرحمہ کے اس کلام سے ظاہر ہے کہ النَّبِی اور النُّبوَّة کا لفظ الف لام تعریف کے ساتھ عرف عام میں تشریعی <mark>نبی</mark> اور تشریعی نبوت کے لئے معتین ہو گیا ہے۔اس لئے غیر تشریعی <mark>نبی</mark> کو اور اس کی نبوت کو النَّبی اور اَلنُّبُوَّة نہیں کہا جائے گا۔اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں:۔" فَسَدَدْنَا بَابَ إِطْلَاقِ لَفْظِ النُّبُوَّةِ عَلَى هَذَا الْمَقَامِ لِئَلَّا يَتَخَيَّلَ 66 مُتَخَيّلٌ اَنَّ الْمُطْلِقَ لِهَذَا اللَّفْظِ يُرِيْدُ نُبُوَّةَ التَّشْرِيْعِ فَيَغْلُطَ۔“ (فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۳) ترجمہ : ہم نے اس مقام نبوت پر النبوة کا لفظ بولنا اس لئے روک دیا ہے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ اس لفظ کو بولنے والا تشریعی نبوت مراد لیتا ہے ( اور سُننے والا ) اس سے (ایسی ) <mark>غلطی</mark> میں نہ پڑ جائے۔