مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 209 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 209

٢٠٩ مقام خاتم انا انبیاء الاولیاء لیکن کسی کے ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی کہلانے سے ایسی غلطی واقع نہیں ہو سکتی۔چنانچہ ایسے نبی کو جو تشریعی نبی نہ ہو۔شیخ اکبر علیہ الرحمۃ اللہی کی بجائے نبی الاولیاء قرار دیتے ہیں۔چنانچہ وہ نبوت مطلقہ رکھنے والے غیر تشریعی انبیاء اور محد ثین امت میں فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔” إِنْ أَرَادَ أَصْحَابُ النُّبُوَّةِ الْمُطْلَقَةِ فَالْمُحَدَّثُوْنَ أَصْحَابُ جُزْءٍ مِنْهَا فَالنَّبِيُّ الَّذِيْ لَا شَرْعَ لَهُ فِي مَا يُوْحَى إِلَيْهِ بِهِ هُوَ رَأْسُ الْأَوْلِيَاءِ وَ جَامِعُ الْمَقَامَاتِ مَقَامَاتٌ مَا تَقْتَضِيْهِ الْأَسْمَاءُ الْإِلَهِيَّةُ مِمَّا لَا شَرْعَ فِيْهِ مِنْ شَرَائِعِ انْبِيَاءِ التَّشْرِيْعِ وَالْمُحَدَّتُ مَا لَهُ سِوَى التَّحْدِيْثِ وَمَا يُنْتِجُهُ مِنَ الْاُمُوْرِ وَالْأَعْمَالِ وَ الْمَقَامَاتِ۔وَكُلُّ نَبِيِّ مُحَدَّتْ وَمَا كُلُّ مُحَدَّثٍ نَبِيٌّ وَهَؤُلَاءِ أَنْبِيَاءُ الْأَوْلِيَاءِ وَأَمَّا الْأَنْبِيَاءُ الَّذِيْنَ لَهُمْ شَرَائِعُ فَلَا بُدَّ مِنْ تَنَزُلِ الْأَرْوَاحِ عَلَى قُلُوبِهِمْ بِالْأَمْرِ وَالنَّهِي۔“ فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحہ ۷۹،۷۷ بلحاظ ایڈیشن مختلفہ ) ترجمہ: نبوت مطلقہ رکھنے والے انبیاء ( یعنی غیر تشریعی انبیاء۔ناقل ) کے مقابل محدثین جزوی طور پر نبوت مطلقہ رکھتے ہیں۔پس وہ نبی جس کی وحی تشریعی نہ ہو وہ راس الاولیاء ہوتا ہے اور ایسے مقامات کا جامع بھی جنہیں اسماء الہیہ چاہتے ہیں۔وہ مقامات جن میں تشریعی انبیاء کی طرح کوئی