مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 194
الجواب (190) مقام خاتم انا خالد محمود صاحب کا شدید اضطراب ان کے اس بیان سے ظاہر ہے وہ ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں یہ فرماتے ہیں کہ اگر ابراہیم میرا بیٹا نہ ہوتا بلکہ حضرت عیسی کی طرح کسی پہلے زمانہ میں پیدا ہو چکا ہوتا اور نبی بن چکا ہوتا اور پھر میرے نبوت کے زمانہ کو پاتا تو پھر وہ نبی تو ہوتا مگر اس کی نبوت نافذ نہ ہوتی۔خالد محمود صاحب کا یہ بیان سراسر دروغ بے فروغ ہے۔وہ صاحبزادہ ابراہیم سے صرف نظر کرنا بتاتے ہیں۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ملا علی قاری علیہ الرحمۃ صرف نظر نہیں کر رہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو معتین طور پر اپنے وفات پانے والے بیٹے ابراہیم کے متعلق یہ فرمارہے ہیں کہ اگر وہ زندہ رہتا تو ضرور صدیق نبی ہوتا۔بلکہ اس کے چھوٹی عمر میں وفات پاجانے یہ کہ کر اسے مشخص فرمارہے ہیں کہ إِنَّ لَهُ مُرْضِعَةٌ فِي الْجَنَّةِ کہ اس کے لئے جنت میں ایک دایہ مقر رہے۔اور گزشتہ حدیث کے مطابق اس کے دفن کئے جانے کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی قسم کھا کر فرمایا:۔أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَنَبِيٌّ إِبْنُ نَبِيِّ “ " یعنی خدا کی قسم بے شک یہ ضرور نبی ہے اور نبی کا بیٹا ہے۔اسی طرح امام علی القاری علیہ الرحمۃ بھی اسی فوت ہو جانے والے ابراہیم مشخص فرزند رسُول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمارہے ہیں کہ اگر وہ زندہ رہتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع نبی ہوتا۔اور اس کا اس قسم کا نبی ہونا آیت خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا۔اس جگہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ اس کی نبوت نافذ