مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 171 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 171

(141) مقام خاتم السنة " الْمُرَادُ أَنَّهَا لَمْ تَبْقَ عَلَى الْعُمُوْمِ وَإِلَّا فَالْإِلْهَامُ وَالْكَشْفُ لِلْأَوْلِيَاءِ مَوْجُودٌ۔( حاشیہ ابن ماجہ نمبر ۲ صفحه ۲۳۲ مطبوعہ مصر ) یعنی مراد یہ ہے کہ علی العموم نبوت میں سے اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں ور نہ اولیاء کے لئے الہام اور کشف کا دروازہ بھی کھلا ہے۔امام عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں:۔” وَقَدْ يَكُوْنُ وَحْيُ الْبَشَائِرِ أَيْضًا بِوَاسِطَةِ مَلَك۔“ یعنی کبھی مبشرات والی وحی بھی فرشتہ کے واسطہ سے ہوتی ہے۔حضرت مجد دالف ثانی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں:۔" إِنَّ كَلَامَ سُبْحَانَهُ تَعَالَى لِلْبَشَرِ قَدْ يَكُوْنَ شَفَاهًا وَذَلِكَ الْأَفْرَادُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَقَدْ يَكُوْنُ لِبَعْضِ الْكُمَّلِ مِنْ مُتَابِعِيْهِمْ وَإِذَا كَثُرَ هَذَا القِسْمُ مَعَ وَاحِدٍ مِنْهُمْ سُمِّيَ مُحَدَّثًا۔( مکتوبات جلد ۲ صفحه ۹۹ مکتوب ۵۲) یعنی خدا تعالی کبھی بالمشافہ کلام کرتا ہے اور یہ لوگ انبیاء ہوتے ہیں اور کبھی اُن کے بعض کامل متبعین سے ایسا ہی کلام کرتا ہے۔اور جب کسی سے وہ کثرت سے ایسا کلام کرتا ہے تو اس کا نام محدث رکھا گیا ہے۔واضح رہے کہ زیر بحث حدیث کی روشنی میں ہی مولوی حکیم محمد حسین صاحب مصنف غایت البرہان“ لکھتے ہیں:۔الغرض اصطلاح میں نبوت بہ خصوصیت الہیہ خبر دینے سے عبارت ہے وہ