مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 163
(1) نتبيين مقام <mark>خاتم</mark> النی السابقین قرار دیا ہے۔ملاحظہ ہو مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد ۵ صفحه ۵۶۴ سابق ا<mark>نبی</mark>اء یا تشریعی تھے یا غیر تشریعی مستقل <mark>نبی</mark>۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے <mark>خاتم</mark> ال<mark>نبی</mark>ین ہونے کی وجہ سے نہ تو کوئی تشریعی <mark>نبی</mark> آسکتا۔اور نہ غیر تشریعی مستقل <mark>نبی</mark> کیونکہ <mark>خاتم</mark> ال<mark>نبی</mark>ین کے معنی امام ملا علی القاری علیہ الرحمۃ نے یہ بیان فرمائے ہیں:۔" الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِيْ بَعْدَهُ نَبِيٌّ يَنْسَخُ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِهِ۔“ ( موضوعات کبیر صفحه ۵۸-۵۹) یعنی <mark>خاتم</mark> ال<mark>نبی</mark>ین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا <mark>نبی</mark> نہیں آسکتا جو آپ کی ملت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔پس جب امتی <mark>نبی</mark> کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنا آپ کے <mark>خاتم</mark> ال<mark>نبی</mark>ین ہونے کے منافی ہی نہیں تو مولوی خالد محمود صاحب کا امتی نبوت کے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد انقطاع کا اس حدیث سے استدلال درست نہ ہوا۔پانچویں حدیث پانچویں حدیث خالد محمود صاحب نے یہ پیش کی ہے کہ ”حضرت ابو ہریرہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور نے ارشاد فرمایا۔فُضَلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍ أُعْطِيْتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَ أُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطُهُوْرًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّوْنَ۔66 ( عقيدة الامة صفحه ۴۳)