مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 155
(100) مقام خاتم النی یعنی اے علی کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون علیہ السّلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی۔لیکن میرے بعد کوئی نبوت باقی نہیں۔إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي ( صحیح بخاری جلد ۲ صفحه ۶۳۲) یہ حدیثیں اور ان کا مندرجہ بالا ترجمہ درج کر کے خالد محمود صاحب لکھتے ہیں :۔اب یہ تو ظاہر ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام شریعت جدیدہ والے نبی نہ تھے بلکہ حضرت موسیٰ کی شریعت کے ماتحت تھے۔ان کے ذکر کے بعد آپ کا لا نبی بعدی فرمانا اس امر کی بین دلیل ہے کہ حديث لا نبی بعدی کے معنی یہی ہیں کہ میرے بعد کوئی امتی نبی بھی نہیں آئے گا۔“ الجواب ( عقیدۃ الامۃ صفحہ ۴۰،۳۹) پُرانے بزرگوں نے تو لَا نَبِيَّ بَعْدِی سے یہی استدلال کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ناسخ شریعت محمد یہ یعنی جدید شریعت لانے والا نبی نہیں آسکتا۔لیکن خالد محمود صاحب کا استدلال اگر درست سمجھا جائے کہ اس حدیث کی رُو سے امتی نبی کے آنے کی بھی نفی ہے تو پھر وہ بتائیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام بطور امتی نبی کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس حدیث کی موجودگی میں کیسے آسکتے ہیں؟ حالانکہ یہ ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آنحضرت صلی