مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 154 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 154

(۱۵۴ آنے کی امید طمع خام۔اور اگر کوئی اور نبی نیا یا پرانا آوے ( یعنی ایسا نبی جو بوجہ مستقلہ نبوت کا مدعی ہونے کے اپنا سکہ جمانا چاہتا ہو۔ناقل ) تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر خاتم الانبیاء رہے۔“ ان عبارتوں سے صاف ظاہر ہے کہ حدیث لا نَبِيَّ بَعْدِي میں لفظ نبی کو حضرت مرزا صاحب نے مستقل نبی کے مفہوم میں لے کر حدیث میں نبی کی نفی عام قرار دی ہے۔لیکن اُمت کے کسی ولی کا نام نبی اور رسُول رکھا جانا آپ کے نزدیک آیت خاتم النبیین اور حديث لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے خلاف نہیں۔اس جگہ یہ نبوت خاتم النبیین کا فیض ہونے کی وجہ سے معروف تعریف نبوت کے بالمقابل مجاز اور استعارہ قرار دی گئی ہے۔ایام الصلح کی یہ عبارتیں تبدیلئی عقیدہ سے پہلے کی ہیں۔دوسری حدیث دوسری حدیث خالد محمود صاحب نے انقطاع نبوت کے ثبوت میں وہ پیش کی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ تبوک پر جانے کے بعد آپ نے اس وقت بیان فرمائی جب کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑا۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور سے عرض کیا کہ کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ چلے ہیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي۔( صحیح مسلم جلد ۲ صفحه ۲۷۸)