مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 153
(۱۵۳) مقام خاتم ان نتين کوئی نیا مستقل نبی۔اس طرح آپ نے اپنے مخالفین کو ان کی مسلمہ تعریف نبوت کے لحاظ تصل سے ملزم ٹھہرایا ہے۔اور اپنی اسی کتاب ایام اصلح کے صفحہ ۷۵ پر یہ بھی تحریر فرما دیا ہے:۔یہ بھی یادر ہے کہ مسلم میں مسیح موعود کے حق میں نبی کا لفظ بھی آیا ہے یعنی بطور مجاز اور استعارہ کے۔اسی وجہ سے براہین احمدیہ میں بھی ایسے الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے حق میں ہیں۔دیکھو صفحہ ۴۹۸ میں یہ الہام: ” هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدى اس جگہ رسول سے مُراد یہ عاجز ہے۔اور پھر دیکھو صفحہ ۵۰۴ براہین احمدیہ میں :۔” جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْإِنْبِيَاءِ “ جس کا ترجمہ یہ ہے خدا کا رسول نبیوں کے لباس میں۔اس الہام میں میرا نام رسُول بھی رکھا گیا اور نبی بھی۔پس جس شخص کے خود خدا نے یہ نام رکھے ہوں اُن کو عوام میں سے سمجھنا کمال درجہ کی شوخی ہے۔اور صفحہ ہے میں تحریر فرماتے ہیں:۔اسلام میں اس نبوت کا دروازہ تو بند ہے جو اپنا سکہ جماتی ہو۔( یعنی مستقلہ نبوت کا دروازہ۔ناقل ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ اور حدیث میں لَا نَبِيَّ بَعْدِی اور بائیں ہمہ حضرت مسیح کی وفات نصوص قطعیہ سے ثابت ہو چکی۔لہذا ان کے دوبارہ دُنیا میں