مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 152 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 152

(۱۵۲) مقام خاتم النی چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنامان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی پھر سلسلہ نبوت کا جاری کر دیا جائے۔کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلا شبہ نبوت کی وحی ہوگی۔افسوس یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ مسلم اور بخاری میں فقرہ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور اَمَّكُمْ مِنْكُمْ صاف طور پر موجود ہے۔یہ جواب سوال مقد رکا ہے۔یعنی جبکہ آنحضرت نے فرمایا کہ تم میں مسیح ابن مریم حکم عدل ہو کر آئے گا تو بعض لوگوں کو یہ وسوسہ دامنگیر ہوسکتا تھا کہ پھر ختم نبوت کیونکر رہے گا۔اس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ وہ تم میں سے ایک امتی ہوگا اور بروز کے طور پر مسیح بھی کہلائے گا۔“ اس پر حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔( ایام اصلح صفحه ۱۴۶) اگر حدیث میں یہ مقصود ہوتا کہ عیسی باوجود نبی ہونے کے پھر امتی بن جائے گا تو حدیث کے لفظ یوں ہونے چاہئیں 66 ( صفحه ۱۴۷) اِمَامُكُمْ الَّذِي يُصِيْرُ مِنْ أُمَّتِي بَعْدَ نُبُوَّتِهِ “ یعنی تمہارا امام جو نبوت کے بعد میری امت میں سے ہو جائے گا۔ان عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ حضرت عیسی علیہ السلام کا جو مستقل نبی تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنا محال قرار دے رہے ہیں۔اور حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی میں نفی عام قرار دیتے ہوئے یہ فرمارہے ہیں کہ نئے اور پُرانے کی تفریق شرارت ہے۔گویانہ کوئی پرانا مستقل نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آسکتا ہے اور نہ