مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 151
(101) وَالْمَعْنَى لَا نَبِيَّ بِنُبُوَّةِ التَّشْرِيْعِ بَعْدِي إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ انْبِيَاءِ أَوْلِيَاء (نبراس حاشیه صفحه ۴۴۵) یعنی حدیث زیر بحث کے فقرہ لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے بعد تشریعی نبوت کے ساتھ کوئی نبی نہیں ہوگا۔اور الَّا مَا شَاءَ اللہ کے استثناء سے مراد انبیاء الاولیاء ہیں یعنی 66 وہ اولیاء جو امت میں سے مقامِ نبوت پانے والے ہیں۔مولوی خالد محمود صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ایام اصلح ، صفحه ۱۴۴ سے ایک ادھورا حوالہ پیش کیا ہے کہ لَا نَبِيَّ بَعْدِي میں نفی عام ہے یہ عبارت دراصل الزامی رنگ میں ہے اور اس میں نبی کی یہ معروف تعریف مد نظر ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو شریعت لائے یا بلا استفادہ کسی نبی کے خدا سے تعلق رکھے اور کسی دوسرے نبی کا انتی نہ کہلائے۔اس معروف تعریف کے مطابق خاتم النبیین صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔مگر دوسرے مسلمان حضرت عیسی کا آنا مانتے ہیں اور انہیں نبی بھی قرار دیتے ہیں۔اس لئے حضرت مرزا صاحب بیان فرماتے ہیں:۔" قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں مگر ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے۔اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے۔نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے۔اور حديث لَا نَبِيَّ بَعْدِی میں نفی عام ہے۔پس یہ کس قدر جرات اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمدا