مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 150 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 150

(10۔) پس حدیث زیر بحث سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلقُوْنَ كَذَّابُوْنَ دَجَّالُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ کا مفہوم یہ ہوا کہ اُمّتِ <mark>محمد</mark>یہ میں تمیں ۳۰ ایسے کذاب دجال پیدا ہوں گے جو صرف <mark>نبی</mark> کا <mark>دعوی</mark>ٰ کریں گے نہ کہ امتی <mark>نبی</mark> کا۔اور صرف <mark>نبی</mark> یا تو تشریعی <mark>نبی</mark> کہلا تا رہا ہے یا مستقل <mark>نبی</mark>۔پس تشریعی اور مستقلہ <mark><mark>نبوت</mark></mark> کا <mark>دعوی</mark>ٰ کرنے والے کو اس حدیث میں د بال کذاب قرار دیا گیا ہے۔اس حدیث کے بالمعنی ایک اور روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:۔سَيَكُوْنُ فِي أُمَّتِي ثَلَفُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَّهُ لَا نَبِيَّ 66 بَعْدِي إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ، (نبراس شرح الشرح لعقا مدنسفی صفحه ۴۴۵) ترجمہ: ”میری امت میں تھیں ۳۰ آدمی ہوں گے ان میں سے ہر ایک <mark><mark>نبوت</mark></mark> کا <mark>دعوی</mark> کرے گا اور تحقیق میرے بعد کوئی <mark>نبی</mark> نہیں سوائے اس <mark>نبی</mark> کے جسے اللہ چاہے۔“ سید روایت اگر چه هیچ بخاری کے پایہ کی نہیں مگر <mark>صاحب</mark> نبر اس کہتے ہیں الا کا استثناء تسلیم کرنے کی صورت میں اس کا تعلق <mark>مسیح</mark> موعود سے ہے۔“ پس ہم بھی اس وقت تک <mark>مسیح</mark> موعود کو ہی <mark>نبی</mark> اللہ جانتے ہیں۔وہ ان تمیں ۳۰ دجالوں میں شامل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اُسے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے <mark>نبی</mark> اللہ بھی قرار دیا ہے اور اپنا امتی بھی۔اس حدیث کے معنوں کے متعلق نبر اس کے حاشیہ میں لکھا ہے:۔