مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 142
۱۴۲ مقام <mark><mark>نبوت</mark></mark> مل سکتا ہے۔خاتم ال<mark>نبی</mark>ین کے دو تقاضے تو خود مولوی <mark>محمد</mark> قاسم <mark>صاحب</mark> نانوتوی علیہ الرحمۃ کو بھی مسلّم ہیں۔اول خاتمیت مرتبی جس کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر <mark><mark>نبوت</mark></mark> کے فیض سے <mark>نبی</mark> پیدا ہوسکتا ہے۔دوم خاتمیت زمانی جس کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شارع اور مستقل <mark>نبی</mark> نہیں آ سکتا۔پس ہم احمدی اس عقیدہ کے قائل نہیں جو خالد محمود <mark>صاحب</mark> نے ہماری طرف منسوب کیا ہے کہ <mark><mark>نبوت</mark></mark> کی منظوری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دیتے ہیں۔ہمارا عقیدہ صرف یہ ہے کہ خاتم ال<mark>نبی</mark>ین کی پیر وی اور افاضہ رُوحانیہ سے امتی کو مقام <mark><mark>نبوت</mark></mark> مل سکتا ہے۔خالد محمود <mark>صاحب</mark> کی بدگمانی مولوی خالد محمود <mark>صاحب</mark> حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی دو عبارتیں پیش کرتے ہیں:۔(الف) ” میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت ، ایک وحی اور ایک <mark>مسیح</mark> موعود کا <mark>دعوی</mark> تھا۔“ (ب) ” قوم پر اس قدر اُمید بھی نہ تھی کہ وہ اس امر کو تسلیم کرسکیں کہ بعد زمانہ <mark><mark>نبوت</mark></mark> وحی غیر تشریعی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔اور قیامت تک باقی ہے۔“ (نصرت الحق صفحه ۵۳) یہ عبارات پیش کرنے کے بعد خالد محمود <mark>صاحب</mark> لکھتے ہیں:۔