مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 140
الده مقام خاتم است نتين لئے آپ نے اپنے الہامات میں <mark>نبی</mark> اور رسول کے نام کی یہ تاویل کی کہ آپ محدث ہیں اور محدث من وجہ <mark>نبی</mark> ہوتا ہے اور من وجہ انتی۔یہ بات ازالہ اوہام میں لکھی ہوئی موجود ہے جو <mark>تبدیلی</mark> تحقیدہ سے پہلے کی کتاب ہے۔خدا تعالیٰ کی وحی کی روشنی سے عقیدہ میں <mark>تبدیلی</mark> صرف اس امر میں ہوئی ہے کہ جس مقام <mark><mark>نبوت</mark></mark> کو آپ محض محدثیت سے تعبیر کرتے تھے وہ تعبیر آپ نے چھوڑ دی اور <mark>نبی</mark> کا لفظ اپنے متعلق صریح قرار دیا نہ کہ تاویل طلب اور ساتھ ہی اپنے آپ کو ایک پہلو سے امتی بھی قرار دیا۔پس معنوی طور پر کیفیت <mark>دعوی</mark> کے لحاظ سے آپ کے عقیدہ میں کوئی <mark>تبدیلی</mark> نہیں ہوئی۔کسی کا ایک پہلو سے <mark>نبی</mark> اور ایک پہلو سے امتی ہونا پہلے بھی آپ قرآن وسنت کے مطابق جائز سمجھتے تھے۔پس آپ کا کوئی عقیدہ اس <mark>تبدیلی</mark> کے بعد بھی قرآن وسنت کے خلاف نہیں۔<mark>مسیح</mark> موعود کو ساری امت اتنی <mark>نبی</mark> مانتی ہے نہ کہ محض محدث اور حضرت بانی سلسلہ احمد یہ بھی <mark>تبدیلی</mark> عقیدہ کے بعد اپنے آپ کو اسی مقام پر قرار دیتے ہیں۔اگر <mark>مسیح</mark> موعود کو امتی <mark>نبی</mark> ماننے کا عقیدہ قرآن وسنت کے خلاف نہیں اور مولوی خالد محمود <mark>صاحب</mark> بھی اسے قرآن وسنت کے خلاف نہیں سمجھتے تو حضرت بانٹے سلسلہ احمدیہ پران کا اعتراض کیا رہا۔حضرت مرزا <mark>صاحب</mark> نے جو بات اپنی وحی کی روشنی میں قرار دی اُسے آپ لوگ قرآن و سنت کی بناء پر مان رہے ہیں۔آپ میں اور ہم میں صرف <mark>مسیح</mark> موعود کی شخصیت میں اختلاف ہے۔ور نہ نوعیت کے لحاظ سے آپ بھی <mark>مسیح</mark> موعود کو امتی <mark>نبی</mark> سمجھتے ہیں اور ہم بھی۔نہ آپ انہیں تشریعی اور مستقل <mark>نبی</mark> مانتے ہیں نہ ہم۔ہمیں اس بات کا صاف اقرار ہے اور ہمارا یہ موقف قرآن وسنت کے <mark>عین</mark> مطابق ہے۔