مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 139
(ira) سال قرآن و سنت کی مراد قرار دیتی چلی آرہی ہے تو اب قرآن و حدیث کی نئی تعبیرات و تشریحات کی بناء خود قرآن وحدیث نہ ہوں گے بلکہ اُن نئی مُرادات کی تمام تر ذمہ داری مرزا صاحب کی اپنی وحی پر ہوگی۔ہے کوئی انصاف پسند مرزائی جو اپنے اس موقف کا صاف اقرار کرے“ الجواب امت چودہ سو سال میں قرآن وسنت کی بناء پر مسیح موعود کو اتنی نبی مانتی چلی آئی ہے۔اور محدث کے معنوں میں نہیں بلکہ بلاشک نبی کے معنوں میں اور دوسری طرف امت اس اُلجھن میں بھی مبتلا رہی ہے کہ کوئی نبی نہیں آسکتا۔ان رسمی عقائد کا تضاد حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے خیالات پر بھی اثر انداز تھا۔آپ نے یہ تو دیکھا کہ نبوت تشریعی اور مستقلہ کا دروازہ قرآنی آیات سے قطعی طور پر بند ہے اور امتی کے لئے مقام نبوت کے پانے کا دروازہ کھلا ہے تو اپنے اجتہاد سے آپ نے ان عقائد کی یوں تعبیر کی کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی تشریعی اور مستقل نبی ہرگز نہیں آسکتا کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔البتہ آپ کی مشکوۃ رسالت سے ایک امتی نور نبوت اور کمالات نبوت حاصل کر سکتا ہے۔چونکہ آپ کو الہامات میں خدا نے نبی اور رسول قرار دیا تھا اور رسمی عقیدہ کے لحاظ سے امتی کے لئے نور نبوت کا حاصل کرنا عموما صرف محد ثیت کے مقام تک محدود سمجھا جاتا تھا جسے صوفیاء نبی الاولیاء بھی قرار دیتے تھے۔جس کا مفہوم یہ تھا کہ محدّث خدا تعالیٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہوتا ہے جس طرح انبیاء مشرف ہوتے ہیں اور وہ شریعت جدیدہ کا حامل نہیں ہوتا۔البتہ مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بجز کی طور پر اس میں نبوت پائی جاتی ہے اس