مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 136 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 136

١٣٦ مقام خاتم ا <mark><mark>نبوت</mark></mark> میں اصل ہیں۔اس اشتہار میں آپ نے واضح طور پر مستقل تشریعی <mark>نبی</mark> یا مستقل <mark>نبی</mark> ہونے سے صاف انکار کیا ہے اور لکھا ہے:۔" جس جس جگہ میں نے <mark><mark>نبوت</mark></mark> اور رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی <mark><mark>شریعت</mark></mark> لانے والا نہیں ہوں۔اور نہ میں مستقل طور پر <mark>نبی</mark> ہوں۔“ آگے چل کر فرماتے ہیں:۔” میرا یہ قول که من نیستم رسُول و نیا وردہ ام کتاب“ اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں <mark>صاحب</mark> <mark><mark>شریعت</mark></mark> نہیں ہوں“ پس حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک غلطی کا ازالہ میں تشریعی <mark>نبی</mark> یا مستقل <mark>نبی</mark> ہونے کا <mark>دعوی</mark> نہیں کیا بلکہ آپ نے ظلمی طور پر ہی <mark>محمد</mark> واحد یعنی فنافی الرسول قرار دے کر ہی اپنے آپ کو خدا سے <mark>نبی</mark> کا لقب پانے کا مستحق قرار دیا ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ <mark>صاحب</mark> محدث دہلوی علیہ الرحمتہ جواپنے زمانہ کے مجد دتھے <mark>مسیح</mark> موعود کی شان میں لکھتے ہیں:۔" يَزْعَمُ الْعَامَّةُ إِنَّهُ إِذَا نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ كَانَ وَاحِدًا مِنَ الْأُمَّةِ۔كَلَّا بَلْ هُوَ شَرْحٌ لِلْاِسْمِ الْجَامِعِ الْمُحَمَّدِى وَنُسْخَةٌ مُنْشَخَةٌ مِنْهُ فَشَتَّانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنَ الْأُمَّةِ۔“ (الخير الكثير صفحه ۲ طبع بجنور مدینہ پریس) یعنی عوام یہ گمان کرتے ہیں کہ <mark>مسیح</mark> موعود جب زمین کی طرف نازل ہوگا تو اس کی حیثیت محض ایک امتی کی ہوگی۔ایسا ہر گز نہیں بلکہ وہ تو اسم جامع