مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 129 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 129

(ira) مقام خاتم السنة نتين جو بعض علماء اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ کافروں سے کفر چھڑانے کے لئے جنگ کرنا جہاد ہے یا جیسے سرحدی پٹھان لوٹ مار کو جہاد اسلام کا نام دیتے تھے یا جیسے لوگ خونی مہدی کے آنے کے منتظر ہیں کہ وہ آکر تلوار کے ذریعہ لوگوں کو مسلمان بنائے گا۔ایسی باتوں کو جہاد اسلام قرار دینا قرآنی تعلیم لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ (دین میں جبر جائز نہیں) کے صریح خلاف ہے۔ایک مومن کبھی ایسی لڑائی کا انتظار نہیں کر سکتا کیونکہ قرآنی تعلیم کی رُو سے یہ جائز ہی نہیں۔تلوار کی لڑائی ( جہاد اسلامی ) اسلام میں صرف دفاعی حیثیت رکھتی ہے اور یہ اس وقت جائز ہوتی ہے جب دشمن پہلے تلوار سے مسلمانوں پر حملہ آور ہو۔ورنہ مسلمانوں کو از روئے تعلیم قرآن لڑائی کی ابتداء کرنے کی اجازت نہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جس آیت میں تلوار کے جہاد کا پہلے حکم دیا اس میں فرماتا ہے:۔أذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقَاتَلُوْنَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (الحج ع ) یعنی مسلمانوں کو مظلوم ہو جانے پر کافروں سے جنگ کی اجازت دی گئی کیونکہ دشمن ان سے لڑائی کر رہا ہے۔پھر فرماتا ہے:۔قَاتِلُوْا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا (بقره ع ۲۴) کہ اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرنا ( یعنی تمہاری طرف سے جنگ کی ابتداء نہیں ہونی چاہیے )