مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 130 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 130

(۱۳۰ مقام خاتم انا پھر فرمایا:۔هُمْ بَدَوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ یعنی ان کافروں نے تم سے جنگ میں ابتداء کی ہے۔اُن کافروں کے متعلق یہ بھی فرمایا:۔إِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا (انفال ع ٨) کہ اگر یہ صلح کی طرف مائل ہوں تو اے نبی تو بھی صلح کی طرف مائل ہو جا۔پس جہاد بالسیف کے لئے قرآن مجید کے قانون کی یہ شرائط ہیں۔ایسی جنگ واقعی حرام ہے جس کی ابتداء اشاعتِ دین کے لئے کی جائے۔قرآن کریم کی رُو سے ایسی لڑائی قطعا حرام ہے۔پس حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی عبارت میں جو قانون بیان ہو ا ہے وہ عین اسلامی قانون ہے۔صحیح بخاری کی حدیث میں مسیح موعود کے حق میں يَضَعُ الْحَرْبَ کے الفاظ بھی وارد ہیں کہ وہ لڑائی کو روک دے گا۔پس مسیح موعود کا یہ فتویٰ کہ دین کی اشاعت کے لئے لڑائی نہ کی جائے۔اسلامی شریعت ہی کا فتویٰ ہے۔تلوار کا جہاد صرف مخصوص حالات میں ہی جائز ہے۔یعنی اس وقت جائز ہے بلکہ واجب ہے جب اس کی شرائط پائی جائیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں:۔إِنَّ وُجُوْهَ الْجِهَادِ مَعْدُوْمَةً فِي هَذَا الْمُلْكِ وَهَذَا الزَّمَانِ کہ جہاد کی شرائط اس ملک اور اس زمانہ میں موجود نہیں۔(ضمیمہ تحفہ گولڑ و یه صفحه ۳۰)