مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 128 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 128

١٢٨ ر خاتم است نتبيين ہونے والے اوامر و نواہی کو تجدید دین کے لئے بیانِ شریعت ہی قرار دیا ہے۔اس لئے وہ آپ پر تشریعی نبوت جدیدہ رکھنے کا الزام قائم کرنے کے لئے لکھتے ہیں:۔”اب چند وہ احکام بیان کئے جاتے ہیں جن میں اسلامی شریعت کا فتویٰ اور ہے اور مرزائی شریعت کچھ اور کہتی ہے۔“ (۱)۔اسلامی شریعت میں جہاد افضل العبادات ماض الی یوم القیامۃ اور عمل حیات جاوید ہے۔مگر مرزائی قانون میں اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔اور قطعا اس بات کو حرام جانتا ہے کہ دین کی اشاعت کے لئے لڑائیاں کی جائیں ( تریاق القلوب صفحه ۲۳۲) یاد رکھو کہ اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے اس سے بدتر اسلام کو بد نام کرنے والا کوئی مسئلہ نہیں 6 تبلیغ رسالت جلده اصفحه ۱۲۴) پہلی عبارت میں مخالفین اسلام کو تلوار کے ذریعہ زبر دستی مسلمان بنانے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔بعض علماء اسے اسلامی جہاد قرار دیتے ہیں۔ضرورت پر دفاعی جنگ کو جائز قرار دیا گیا ہے۔صرف مذہب بدلانے کے لئے کسی کو قتل کرنا حرام قرار دیا ہے۔یہ تعلیم قرآن و حدیث میں ہرگز موجود نہیں کہ دین کی اشاعت کے لئے لڑائیاں کی جائیں۔دوسری عبارت میں جہاد کا مسئلہ اس مفہوم میں اسلام کو بدنام کرنے والا قرار دیا ہے