مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 124
۱۲۴ مقام خاتم انا 66 قرآن مجید خاتم الكتب۔“ اربعین کی عبارت مخالفین کے سامنے بطور تحجبت ملزمہ کے پیش کی گئی ہے اور اس اعتراض کے جواب میں ہے کہ آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ۔(الحاقہ آیت ۴۷ - ۴۵) صرف صاحب شریعت مدعی کے لئے معیار ہو سکتا ہے۔وہ جھوٹا دعوی کر کے تیئیس ۲۳ سال مہلت نہیں پاتا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ تمہارا یہ دعویٰ باطل ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے افتراء کے ساتھ شریعت کی قید نہیں لگائی۔پھر الزامی رنگ میں فرمایا ہے کہ جس امر کو تم شریعت کہتے ہو وہ اوامر و نواہی ہی ہوتے ہیں۔اور میرے الہامات میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔لہذا تم لوگوں پر میرا مانا اس معیار کی رُو سے اپنے تسلیم کردہ قاعدہ کے مطابق بھی حجت ہوا۔مگر اربعین میں ہی حضور نے یہ وضاحت فرما دی ہے کہ آپ پر جو الہامات قرآنی الفاظ میں بطور امر و نہی نازل ہوئے ہیں وہ صرف تجدید دین اور بیانِ شریعت کے طور پر نازل ہوئے ہیں۔چنانچہ اسی مضمون میں اربعین نمبر ۴ صفحہ ۸ پر تحریر فرماتے ہیں:۔”ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے۔تا ہم خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر حرام نہیں کیا کہ تجدید دین کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعہ یہ احکام صادر کرے کہ جُھوٹ نہ بولو۔چھوٹی گواہی نہ دو۔زنانہ کرو۔خون نہ کرو اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا بیان شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔“ پس آپ کی وحی میں جو امر و نہی نازل ہوئے ان کی حیثیت کسی الگ شریعت جدیدہ کی نہیں بلکہ ان کی حیثیت بیانِ شریعت کی ہے۔شریعت جدیدہ آپ کے نزدیک قرآن مجید