مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 116
(117) رسُول کا تخت گاہ ہے اور تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“ مقام خاتم است ( دافع البلاء صفحہ ۹) ۳۔” اور میں اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔اور اُس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔“ ( تتمہ حقیقته الوحی صفحه ۶۸) ۴۔” یہ خدا کا کلام جو میرے پر نازل ہوا۔اور یہ دعویٰ اُمتِ محمدیہ میں سے آج تک کسی اور نے ہر گز نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف میں اس نام کا مستحق ہوں۔“ (تتمہ حقیقته الوحی صفحه ۶۸) ۵۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔“ (حقیقته الوحی صفحه ۳۹۱) ۶۔اس نمبر میں خالد محمود صاحب نے تین شعر نزول امسیح سے رد و بدل کے ساتھ پیش کر کے غلط تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔ان کے پیش کردہ شعر یہ ہیں:۔انبیاء گرچه بوده اند بسے من بعرفاں نہ کمترم زکسے کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں ہر کہ گوید دروغ ہست لعیں آنچه دادست ہر نبی راجام داد آن جام را مرا بتمام اس ترتیب میں دوسرا شعر یہ تاثر پیدا کر رہا ہے کہ حضرت مرزا صاحب اپنے آپ کو کسی نبی سے بھی کم درجہ کا نہیں سمجھتے۔لیکن نظم کی اصل ترتیب