مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 110
(۱۱۰) خلافت محمدیہ میں ممتنع قرار دیا گیا ہے نہ کہ امتی رسول کے آنے کو۔مقام خاتم است یہی حال اُن کی باقی پیش کردہ عبارتوں کا ہے ان میں بھی تشریعی اور مستقلہ نبوت کو ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم قرار دیا گیا ہے اور خود ایسی ہی نبوت کے دعویٰ سے انکار کیا ہے۔ان عبارتوں میں بھی اور اس کے بعد کی تمام تحریروں میں بھی جو تا دم واپسیں آپ نے تحریر فرمائیں۔ان میں کسی تحریر میں بھی مستقل یا تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ایک پلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہی قرار دیا ہے اور مولوی خالد محمود صاحب کو یہ مسلم ہے کہ یہ ایک جدید قسم کی نبوت ہے جس کے حامل ان کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام اپنی آمد ثانی میں ہوں گے۔تبد یلی عقیدہ کا ثبوت یہ ہیں:۔مولوی خالد محمود صاحب نے عقیدۃ الامۃ صفحہ ۲۲ تا ۲۴ پر جو عبارتیں درج کی ہیں وہ ہے۔میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سرور انبیاء نے نبی رکھا ( نزول اسیح صفحهم ) میں رسُول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے۔وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“ ( حاشیہ نزول مسیح علیم) اس کا پہلاحصہ جو مولوی خالد محمود صاحب نے حذف کر دیا ہے یہ ہے کہ " میں نبی اور رسول نہیں ہوں باعتبار نئی شریعت اور نئے دعوئی اور