مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 105 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 105

(۱۰۵) مقام خاتم النی اس عبارت میں علم دین سے مُراد شریعت کے وہ اوامر ونواہی ہیں جو بتوسط جبریل ایک مستقل تشریعی نبی پر نازل ہوں۔ایسی وحی رسالت کا دروازہ ہی آپ نے مسدود قرار دیا ہے۔مولوی خالد محمود صاحب نے اس عبارت پر جو تشریحی نوٹ لکھا ہے اس میں انہیں مسلّم ہے کہ:۔”مرزا صاحب کی یہ عبارت اس سیاق و سباق میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور اُن کا قرب قیامت میں نزول فرمانا عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ہے۔66 ( عقيدة الامۃ صفحہ ۱۹) مولوی خالد محمود صاحب کا یہ بیان درست ہے۔چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام مسلمانوں کے نزدیک بالعموم تشریعی نبی خیال کئے جاتے ہیں جیسا کہ خود خالد محمود صاحب کا بھی یہی خیال ہے کیونکہ وہ انجیل کو شریعت کی کتاب سمجھتے ہیں۔اس لئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اُن کی آمد ثانی کو آیت خاتم النبیین کے رُو سے جائز قرار نہیں دیا۔اسی طرح کسی نئے مستقل یا تشریعی نبی کا آنا بھی آپ نے ہمیشہ آیت خاتم النبیین کے منافی قرار دیا ہے۔ورنہ اس عبارت کے یہ معنی نہیں کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کسی رنگ میں بھی اس وقت اپنے آپ کو نبی قرار نہیں دیتے تھے۔مولوی خالد محمود صاحب نے اس عبارت پر جو حاشیہ لکھا ہے اس میں انہیں صاف مسلّم ہے کہ ”مرزا صاحب نے جب ازالہ اوہام لکھی تو اس وقت بھی وہ اپنے دعوئی میں مرسل یزدانی اور مامور رحمانی تھے۔چنانچہ ازالہ اوہام کے سرورق پر یہ