مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 98
(۹۸) مقام خاتم الن نتين آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور مرتبہ کے بارہ میں اس تدریجی انکشاف پر یہ نکتہ چینی کی ہے کہ جب تک آپ مکہ میں رہے اپنے آپ کو رسُول کہلاتے رہے کیونکہ عرب ایک رسول کی آمد کے منتظر تھے۔اور حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی دُعا میں بھی رَبَّنَا وَابْعَتْ فِيْهِمْ رَسُوْلا مِنهُم۔۔الخ میں ایک رسول ہی کی آمد کی دُعا تھی۔دلیل ان نکتہ چینوں کی یہ ہے کہ مکی سورتوں میں آپ کو لفظ رسول سے خطاب کیا گیا ہے۔نبی کے لفظ سے خطاب نہیں کیا گیا اور جب آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے اور وہاں یہو د رہتے تھے جو مطابق پیشگوئی تو رات موسیٰ کی مانند ایک نبی کی آمد کے منتظر تھے۔اس لئے آپ نے وہاں نبی کہلا نا شروع کیا چنانچہ مدنی سورتوں میں ہی آپ کو يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ کہہ کر خطاب کیا گیا۔وہ یہی اعتراض کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ یہ سب کچھ سوچی سمجھی ہوئی سکیم کے ماتحت تھا۔حالانکہ اُن کا یہ اعتراض سراسر بدظنی پر مبنی ہے کیونکہ قرآن مجید کی سورۃ اعراف میں جو مکی سورۃ ہے آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیتِ کریمہ الَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاتِ وَالْإِنْجِيْلِ مَیں «الرَّسُول“ کے علاوہ تورات وانجیل میں موعود النبی کی پیشگوئی کا مصداق بھی قرار دے دیا گیا تھا۔البتہ خاتم النبیین ہونے کا انکشاف آپ پر ضرور دعوی رسالت کے اٹھارہ سال بعد ہو ا تھا۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر احکام بھی تدریجا نازل فرمائے ہیں۔تا کہ تمام اوامر و نواہی کا قوم پر یکدم بوجھ نہ پڑ جائے۔اور اس پر ان کی تعمیل شاق اور گراں نہ ہو۔مگر اوامر و نواہی کے تدریجا نزول کی اس حکمت کو نہ سمجھتے ہوئے کج طبع اور بدظنی کا مادہ