مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 96
مقام خاتم ان آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم پر اپنے مرتبہ کے متعلق تدریجی انکشاف آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے متعلق احادیث نبویہ میں مروی ہے کہ جب آپ کو پہلی بار وحی ہوئی اور فرشتہ نظر آیا تو آپ اقتضائے بشریت سے خائف ہو گئے۔اور کانپتے ہوئے گھر آئے اور گھر والوں سے کہا زَمِلُونِي زَمِلُونِي فَإِنِّي خَشِيْتُ عَلَىٰ نَفْسِي که مجھے کپڑا اوڑھا دو مجھے کپڑا اوڑھا دو۔کیونکہ میں اپنے بارہ میں ڈرتا ہوں اس پر حضرت اُتم الم<mark>ومن</mark>ین خدیجہ رضی <mark>اللہ</mark> عنہا نے آپ کو تسلی دی اور پھر اپنے رشتہ دار ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ورقہ نے آپ کو تسلی دی اور بتایا کہ یہ وہی وہی ہے جو موٹی پر نازل ہوئی تھی۔محدث ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:۔فَلَمَّا سَمِعَ كَلَامَهُ أَيْقَنَ بِالْحَقِّ وَاعْتَرَفَ بِهِ یعنی جب آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم نے ورقہ بن نوفل کا کلام سنا تو آپ کو حق کا یقین ہو گیا اور آپ نے اس کا اعتراف کیا۔اس تسکین و یقین کے <mark>بعد</mark> بھی رسول کریم صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم نے عام مخلوق میں اپنے پر اس نزول وحی کے دعوئی کا اعلان کرنے میں احتیاط برتی اور اس کی تبلیغ صرف اپنے دوستوں تک ہی محدود رکھی۔وَانْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ کی آیت کا نزول ہوا تو آپ نے نزدیک کے خاندانوں میں دعوت پھیلا دی۔علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں:۔دو تین برس تک نہایت راز داری کے ساتھ فرض تبلیغ ادا کیا۔لیکن اب آفتاب رسالت بلند ہو چکا تھا۔صاف حکم آیا فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ تجھ کو جو حکم دیا ہے واشگاف کر دے۔“ (سیرة النمی جلد اول صفحہ ۱۴۸)