مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 95 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 95

۹۵ مقام خاتم النت یادر ہے کہ کسی نبی پر اس کی شانِ نبوت کے متعلق تدریجی انکشاف ہرگز قابلِ اعتراض نہیں بلکہ درجہ میں تدریجی ترقی بھی قابلِ اعتراض نہیں۔چنانچہ امام ربانی حضرت مجد دالف ثانی علیہ الرحمتہ اپنے مکتوبات میں نبوت کے حصول کے دو طریق بیان کرتے ہوئے دوسری راہ یہ بیان فرماتے ہیں:۔راه دیگر آنست که بتوسط حصول ایں کمالات ولایت حصول به کمالاتِ نبوت میتر گردد۔راه دوم شاهراه است و اقرب است بوصول که بکمالات نبوت رسد این راه رفته است از انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام و اصحاب ایشان به تبعیت دوراثت مکتوبات حضرت مجد دالف ثانی جلد ا مکتوب ۳۰۱ صفحه ۴۳۲) ترجمہ: دوسری راہ یہ ہے کہ کمالات ولایت حاصل کرنے کے واسطہ سے کمالات نبوت کا حاصل کرنا میتر ہو۔یہ دوسری راہ شاہراہ ہے اور کمالات نبوت تک پہنچنے میں قریب ترین راہ ہے۔الا ماشاء اللہ اسی راہ پر بہت سے انبیاء اور اُن کے اصحاب ان کی پیروی اور وراثت سے چلے ہیں۔پس جب اکثر انبیاء کو نبوت ولایت کے مقام سے ترقی کر کے تدریجا حاصل ہوئی تو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام پر اپنی نبوت کے متعلق تدرجی انکشاف کس طرح قابل اعتراض ہو سکتا ہے۔اسے مولوی خالد محمود صاحب کا قلابازیاں اور کروٹیں قرار دینا اس حقیقت سے ناواقفی کا ثبوت ہے جو حضرت مجد دالف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے اُوپر کے اقتباس میں بیان فرمائی ہے۔