مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 94 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 94

تدریجی انکشاف ۹۴ مقام خاتم انا چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اپنی شانِ نبوت کے بارہ میں تدریجی انکشاف ہوا۔مولوی خالد محمود صاحب نے گندہ دہنی سے کام لیتے ہوئے اُسے قلابازیوں اور کروٹوں سے تعبیر کیا ہے اور اس بارہ میں حضرت اقدس کی بعض ایسی عبارتیں پیش کی ہیں جن میں سے بعض میں اپنے نبی ہونے سے انکار مذکور ہے۔اور بعض میں اقرار۔حلانکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت اقدس نے اس امر کو خود واضح فرما دیا ہے کہ جس جس جگہ آپ نے نبوت سے انکار کیا ہے اس جگہ تشریعی نبوت اور مستقلہ نبوت سے انکار ہے۔لیکن ان معنوں سے کہ آپ نے اپنے آقا و مولیٰ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفے صلے اللہ علیہ وسلم کے باطنی فیوض سے امور غیبیہ پر اطلاع پائی ہے۔ان معنوں سے آپ نے نبی ہونے سے کبھی انکار نہیں کیا۔ہاں اس بارہ میں آپ کے عقیدہ میں ضرور تبدیلی ہوئی ہے۔کہ پہلے آپ خدا کی طرف سے کامل انکشاف نہ ہونے کی وجہ سے اپنے متعلق نبی کے لفظ کی تاویل محدث کے لفظ سے فرماتے رہے کیونکہ محدث میں بھی ایک حد تک شانِ نبوت پائی جاتی ہے لیکن بعد میں آپ پر انکشاف ہو گیا کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے صریح طور پر نبی کا خطاب دیا گیا ہے اس لئے آپ نے اپنے متعلق لفظ نبی کی تاویل محدث کرنا ترک کر دی۔صرف یہی ایک تبدیلی آپ کے عقیدہ نبوت میں ہوئی ہے۔مگر اس تبدیلی کے باوجو دتشریعی نبوت اور مستقلہ نبوت کا دعویٰ آپ نے کبھی نہیں کیا۔بلکہ اپنے آپ کو ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہی قرار دیتے رہے ہیں یا اپنی نبوت کو ظلی نبوت کے نام سے موسوم فرماتے رہے ہیں۔