مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 89 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 89

(19 مقام خاتم انا چھوڑتے ہیں۔انصاف ! انصاف !! انصاف !!! مولوی خالد محمود <mark>صاحب</mark> کی جرح کا امر ثانی، دوسری بات جو مولوی خالد محمود <mark>صاحب</mark> نے ہمارے استدلال پر تنقید کی صورت میں لکھی ہے یہ ہے کہ اگر اس ( آیت ناقل) سے مرزائی حضرات اجرائے <mark><mark>نبوت</mark></mark> پر استدلال کریں گے تو کیا اس سے تشریعی <mark><mark>نبوت</mark></mark> اور مستقل غیر تشریعی <mark><mark>نبوت</mark></mark> ہر دو کے دروازے بھی گھلے نظر نہ آئیں گے؟ اور ظاہر ہے کہ مرزائی حضرات کے قول کے مطابق مرزا <mark>صاحب</mark> خود بھی ایسی ہر <mark><mark>نبوت</mark></mark> کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم مانتے ہیں۔“ الجواب بیشک حضرت <mark>مسیح</mark> موعود علیہ السلام تشریعی <mark><mark>نبوت</mark></mark> اور مستقل غیر تشریعی <mark><mark>نبوت</mark></mark> کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے بعد بالکل منقطع جانتے ہیں۔مگر اس آیت میں رُسُل کا لفظ ” عام مخصوص بالبعض“ ہے۔یعنی اس کے عموم کی تخصیص دوسری آیات کر رہی ہیں۔چنانچہ آیت مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ سُوره نساء آیت۷۰) سے ظاہر ہے کہ آئیندہ <mark>نبی</mark> وہی ہوسکتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع ہو۔یعنی <mark><mark>شریعت</mark></mark> <mark>محمد</mark>یہ پر قائم ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہو۔اور آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ سُوره مائده آیت ۴) سے ظاہر ہے کہ <mark><mark>شریعت</mark></mark> <mark>محمد</mark> یہ ایک کامل <mark><mark>شریعت</mark></mark> ہے۔اور آیت إِنَّا نَحْنُ