مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 84 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 84

۴۸۴ مقام خاتم است ماسوا اس کے کہ تشریعی <mark>نبوت</mark> کے انقطاع کے متعلق واضح آیات موجود ہیں جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔پس اس آیت میں غیر تشریعی ، خلی اور انعکاسی <mark>نبوت</mark> کا ہی بیان ہے۔کیونکہ امتی کو جو بھی کمالات ملتے ہیں وہ ظلمی اور انعکاسی طور پر ہی ملتے ہیں۔لہذا اس آیت میں مولوی خالد محمود صاحب کی تینوں مطلوبہ شرائط مندرجہ عقیدۃ الامۃ صفحہ 1 کے ساتھ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی نئی مصطلحہ <mark>نبوت</mark> کے باقی ہونے کا واضح ثبوت موجو د ہے۔گو اس آیت میں <mark>ظلی</mark> اور انعکاسی کا لفظ تو موجود <mark>نہی</mark>ں مگر <mark>ظلی</mark>ت اور انعکاس مَنْ يُطِعِ الله وَالرَّسُولَ کے الفاظ سے مستنبط ضرور ہے۔مولانا <mark>محمد</mark> قاسم صاحب نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ تمام ا<mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>ائے کرام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل اور ع<mark>کس</mark> ہی قرار دیا ہے حالانکہ قرآن مجید میں ان کے لئے کہیں ظل و انعکاس کا تصریحا ذکر موجود <mark>نہی</mark>ں۔چنانچہ مولانا موصوف تحریر فرماتے ہیں:۔ا<mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>اء میں جو کچھ ہے وہ ظلت اور ع<mark>کس</mark> <mark>محمد</mark>ی ہے۔کوئی ذاتی کمال <mark>نہی</mark>ں پر <mark>کس</mark>ی <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark> میں وہ ع<mark>کس</mark> اسی تناسب پر ہے جو جمال کمال <mark>محمد</mark>ی میں تھا۔اور ر<mark>کس</mark>ی میں بوجہ معلوم وہ تناسب نہ رہا ہو۔“ تحذیر الناس صفحہ ۲۹ یا ۳۰ بلحاظ ایڈیشن مختلفه ) <mark>ظلی</mark>ت اور انعکاس کا یہ استنباط مولانا نے خاتم ال<mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>ین کے معنی خاتمیت مرتبی ہی سے کیا ہے۔اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں:۔کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت وقرب کا بجز سچی اور کامل