مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 66 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 66

(YY) مقام خا کی طرف خاتمیت زمانی بمعنی مطلق آخری نبی ہی منسوب کرنے پر مصر ہیں تو پھر وہ اس بریلوی عالم کے مذکورہ اعتراض کا ہرگز کوئی معقول جواب نہیں دے سکتے۔اگر اُن کے پاس کوئی جواب ہے تو وہ پیش کریں۔بریلوی عالم کا اعتراف حقیقت رسالہ رضوان کا مضمون نگار بریلوی عالم مولا نا محمد قاسم صاحب کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو بالذات اور سوا آپ کے اور نبیوں کی نبوت کو بالعرض قرار دینے پر محض متعصبانہ نگاہ سے مولانا موصوف سے بے انصافی کرتے ہوئے بالعرض کے معنی عارضی قرار دیکر معترض ہے کہ مولانا موصوف نے تمام انبیاء کی نبوت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بالمقابل عارضی قرار دے دیا ہے۔حالانکہ بالعرض سے حضرت مولا نا موصوف کی مراد عارضی نہیں۔بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ تمام انبیاء کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کے واسطہ سے ہے اور یہ بریلوی عالم خود بھی تمام انبیاء کی نبوت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے مانتا ہے۔چنانچہ یہ لکھتا ہے:۔یہ بات بھی حق ہے کہ ابتدا سے لے کر تا ابد تک اے جس کو نعمت ملی ہے اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور قاسم ( تقسیم کرنے والے۔ناقل ) حضور اکرم ہیں۔جس کو جو نعمت ملی وہ حضور کے وسیلہ اور واسطہ سے ملی ہے تو اس اصول کے لحاظ سے یہ کہنا حق ہے کہ انبیاء کی نبوت بھی حضور کے صدقہ اور وسیلہ سے ملی ہے۔“ (رضوان یکم فروری ۵ صفحه ۸ کالم ۴) حاشیہ انقل مطابق اصل ہے۔ویسے تا اور تک دونوں کا اکٹھا استعمال غلط ہے۔(مؤلف)