مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 48
مقام خاتم است کہ اس مسیح موعود پر وحی حقیقی نازل ہوگی جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں آیا ہے۔آگے لکھتے ہیں :۔حَدِيْثُ لَا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتِي بَاطِلٌ وَمَا اشْتَهَرَانَّ جِبْرِيلَ لَا يَنْزِلُ إِلَى الْأَرْضِ بَعْدَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ لَا أَصْلَ لَهُ۔“ ( روح المعانی جلدے صفحہ ۶۵) یعنی حديث لَا وَحْـيَ بَعْدَ مَوْتِی باطل ہے اور جو یہ مشہور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جبریل زمین کی طرف نازل نہیں ہوں گے ایک بے اصل بات ہے۔حضرت امام علی القاری علیہ الرحمتہ جو فقہ حنفیہ کے جلیل القدر امام اور ایک مسلم محدث ہیں فرماتے ہیں:۔” أَمَّا الْحَدِيْتُ لَا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتِيْ بَاطِلٌ وَلَا أَصْلَ لَهُ نَعَمُ وَرَدَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ وَمَعْنَاهُ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ لَا يَحْدُثُ بَعْدَهُ نَبِيٌّ بِشَرْعٍ يَنْسَخُ شَرْعَهُ الاشاعة في اشراط الساعة صفحه ۲۲۶) یعنی حدیث لَا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتِى باطل اور بے اصل ہے۔ہاں حدیث میں لَا نَبِيَّ بَعْدِى وارد ہے اور اس کے معنی علماء کے نزدیک یہ ہیں کہ آئندہ کوئی ایسا نبی پیدا نہ ہوگا جو ایسی شریعت لے کر آئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرے۔پس جس طرح امام علی القاری علیہ الرحمۃ کے نزدیک خاتمیت زمانی کو