مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 14
مقام خاتم الن رُوحانیت گمل گا ہے برار باب ریاضت چناں تصرف مے نمائد کہ فاعل افعال شاں مے گردو و ایں مرتبه راصو فیاء بروز می گویند بعضے برآئند که روح عیسی در مهدی بروز کند واز نزول عبارت ہمیں بروز است مطابق ایس حدیث کہ لَا الْمَهْدِى إِلَّا عِيْسَى “ (ابن ماجہ ) (اقتباس الانوار صفحه ۵۲) یعنی کاملین کی روحانیت کبھی ارباب ریاضت پر ایسا تصرف کرتی ہے کہ وہ ان مرتاضین کے افعال کا فاعل بن جاتی ہے اور اس مرتبہ کے پانے کو صوفیاء بروز قرار دیتے ہیں۔بعض کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی رُوح مہدی میں بروز کرے گی اور نزول عیسی سے مراد یہی بروز ہے مطابق اس حدیث کے کہ عیسی کے سوا کوئی مہدی نہیں۔امام سراج الدین ابن الوردی اپنی کتاب خریدة العجائب وفريدة الرغائب کے صفحہ ۲۱۴ میں لکھتے ہیں :۔وَقَالَتْ فِرْقَةٌ مِنْ نُزُوْلِ عِيْسَى خُرُوْجُ رَجُلٍ يَشْبَهُ عِيْسَى فِي الْفَضْلِ وَالشَّرْفِ كَمَا يُقَالُ لِلرَّجُلِ الْخَيْرِ مَلَكٌ وَلِلشَّرِيْرِ شَيْطَانٌ تَشْبِيْهَا بِهِمَا وَلَا يُرَادُ الْأَعْيَانُ۔یعنی ایک گروہ نے کہا ہے کہ نزول عیسی سے ایک ایسے آدمی کا ظہور مُراد ہے جو فضل و شرف میں حضرت عیسی کے مشابہ ہوگا۔جیسے کہ ایک نیک آدمی کو فرشتہ کہہ دیتے ہیں اور شریر آدمی کو شیطان کہہ دیتے ہیں مگر اس سے فرشتہ اور شیطان کی ذات مراد نہیں ہوتی۔“