مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 210 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 210

(M۔) مقام خاتم است شریعت نہیں ہوتی۔اور محدث کو تو صرف تحدیث اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے امور اور مقامات حاصل ہوتے ہیں۔پس ہر نبی محدث ہوتا ہے اور ہر محدث نبی نہیں ہوتا۔یہ سب لوگ (غیر تشریعی انبیاء اور محدثین۔ناقل ) انبیاء الاولیاء ہوتے ہیں لیکن وہ انبیاء جو تشریعی ہوتے ہیں اُن کے دلوں پر ارواح (فرشتے) امر و نہی ( یعنی شریعت) لیکر نازل ہوتے ہیں۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ شیخ اکبر علیہ الرحمۃ نبوت مطلقہ رکھنے والے غیر تشریعی انبیاء کے مقابلہ میں محدثین امت کو نبوت مطلقہ جزوی طور پر رکھنے کی وجہ سے نبی قرار نہیں دیتے۔ہاں وہ غیر تشریعی انبیاء کی طرح محد ثین کے لئے انبیا ء الا ولیاء کا اطلاق جائز رکھتے ہیں۔ہاں امت محمدیہ کا مسیح موعود اُن کے نزدیک بالاختصاص نبوت مطلقہ رکھنے والا نبی الاولیاء ہے چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں:۔" يَنْزِلُ وَلِيًّا ذَا نُبُوَّةٍ مُطْلَقَةٍ يَشْرَكُهُ فِيْهَا الْأَوْلِيَاءُ الْمُحَمَّدِيُّوْنَ فَهُوَ مِنَّا وَهُوَ سَيِّدُنَا۔“ ( فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۴۹) ترجمہ مسیح موعود نبوت مطلقہ رکھتے ہوئے نبی الاولیاء ہوگا اور اس امر میں اولیاء محمدی بھی اس کے شریک ہیں ( مگر صرف جزوی طور پر۔ناقل ) مسیح موعود ان محد ثین کے بالمقابل ان کے نزدیک بلا شک نبی ہے۔چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں:۔،، " يَنْزِلُ فِيْنَا حَكَمًا مِنْ غَيْرِ تَشْرِيْعِ وَهُوَ نَبِيٌّ بِلَا شَكٍّ۔“ (فتوحات مکیہ جلد اصفحه ۵۷۰)