مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 179
(19) مقام خاتم النبيين: ساتھ جمع ہو سکتی ہے۔ورنہ خاتمیت زمانی علی الاطلاق قرار دینے کی صورت میں خاتمیت مرتبی کا اثر آئیندہ کے لئے منقطع قرار دینا پڑتا ہے اور نہ مسیح موعود بحیثیت امتی نبی کے آسکتے ہیں اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح خاتمیت مرتبی کے لحاظ سے دائمی خاتم النبیین رہتے ہیں۔خاتمیت زمانی علی الاطلاق اور خاتمیت مرتبی میں تو تناقض ہے۔یہ دونوں قسم کی خاتمیت تو اکٹھی پائی نہیں جاسکتی۔پس تاخر زمانی به لحاظ تشریعی موت کے خاتمیت مرتبی کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے۔اسی لئے علماء نے حضرت عیسی کا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی کی حیثیت میں آنا تسلیم کیا ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں:۔ا۔لعنت ہے اس شخص پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے علیحدہ ہو کر نبوت کا دعویٰ کرے۔مگر یہ نبوت ( یعنی مسیح موعود کی نبوت۔ناقل ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہے نہ کہ کوئی نئی بوت۔اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ اسلام کی حقانیت دنیا پر ظاہر کی جائے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی دکھلائی جائے۔“ (چشمہ معرفت صفحه ۳۲۷) ۲۔یہ خوب یاد رکھنا چاہئیے کہ نبوت تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بالکل مسدود ہے۔اور قرآن مجید کے بعد اور کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے۔یا اس کی پیروی معطل کرے۔بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے۔“ (الوصیت صفحه ۱۲ حاشیہ)