مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 141
(IM) مقام خاتم النی نتين مولوی خالد محمود صاحب ”ایک غلطی کا ازلہ سے ذیل کی عبارت نقل کرتے ہیں:۔خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغائرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کا توڑنے والا ہوگا جو خاتم النبیین پر ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اس خاتم النبیین میں ایسا گم ہو که باعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اس کا نام پالیا اور صاف آئینہ کی طرح اس میں محمدی چہرہ کا انعکاس ہو گیا تو وہ بغیر مُہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلمی طور پر۔“ مولوی خالد محمود صاحب عقیدۃ الامۃ صفحہ ۳۱ پر اس عبارت پر درج ذیل نوٹ دیتے ہیں :۔" مرزائی حضرات اس تقاضے پر غور کریں کہ کیا اس سے وہ تمام تاویلات جو ” مُہر “ بمعنی دوسروں کی نبوت کی منظوری دینا یا غیر تشریعی نبوت کو اس مُہر لگنے سے خارج رکھنا یا اطاعت سے نبوت ملنا وغیرہ کیا یہ سب غلط انداز 66 فکر اس ایک ہی تقاضے سے جسم نہیں ہو جاتے۔فافہم۔“ افسوس ہے کہ خالد محمود صاحب اس عبارت کو سمجھ نہیں سکے یا وہ تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں۔خاتم النبیین کا بیشک یہ تقاضا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مستقل یا تشریعی نبی کا آنا اس مُہر کو توڑنے کے مترادف ہے جو خود خاتم العین پر ہے۔لیکن اس کا دوسرا تقاضا یہ بھی تو بیان ہو رہا ہے کہ خاتم النبيين میں بدرجہ اتم فنا ہونے والا انعکاسی طور پر نبی کہلا سکتا ہے۔اور اس سے وہ مہر نہیں ٹوٹتی جو خاتم النبین پر لگی ہوئی ہے۔آخر یہ بھی تو خاتم النبیین کا تقاضا ہے کہ امتی کو ظلی طور پر