مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 79
(29) مقام خاتم السنة نتين آیتیں بتاتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کسی تشریعی نبی کی ضرورت نہیں۔اس لئے آیت وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ کے ان آیات کی موجودگی میں صرف یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ اب صرف امتی نبی ہی خاتمیت مرتبی کے فیض سے آ سکتا ہے۔کوئی تشریعی اور مستقل نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔کیونکہ آپ کی شریعت کے آنے پر دائما اس کی اطاعت شرط ہے۔اور شریعت محمدیہ کی اطاعت ہی خدائے تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔(ب) مولوی خالد محمود صاحب نے یہ غلط لکھا ہے کہ مرزا صاحب کے قول کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کو نبوت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کے واسطہ سے ملی تھی۔اس امر کو حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا قول قرار دینے کیلئے خالد محمود صاحب چشمہ مسیحی کی عبارت پیش کرتے ہیں کہ :۔ایک بندہ خدا کا عیسی نام جس کو عبرانی میں یسوع کہتے ہیں تمہیں برس تک موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنا اور مرتبہ نبوت پایا۔“ مولوی خالد محمود صاحب نے اس قول کے لئے چشمہ مسیحی صفحہ ۲۴ کا حوالہ دیا ہے مگر یہ ادھوری عبارت جو انہوں نے پیش کی ہے یہ صفحہ ۶۷ کی ہے اور اس سے پہلے لکھا ہے:۔” یہ لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں ہمارے سید ومولے خیر الرسل وافضل الانبیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔جبکہ کہتے ہیں اس اُمت میں عیسی ابن مریم کا مثیل کوئی نہیں آسکتا تھا اس لئے ختم نبوت کی مُہر تو ڑ کر اُسی اسرائیلی عیسی کو کسی وقت خُدا تعالئے دوبارہ دُنیا میں لائے گا۔اس اعتقاد سے صرف ایک گناہ نہیں بلکہ دو گناہ کے مرتکب ہوتے