مالی قربانی ایک تعارف — Page 86
مالی قربانی 86 فطرانہ ایک تعارف فطرانہ کو عربی میں صدقۃ الفطر کہا جاتا ہے۔جس کی ادائیگی عید الفطر سے پہلے کرنا ضروری ہے۔تاکہ اس کے ذریعہ غرباء ومساکین کو عید کیلئے ضروریات زندگی مہیا کی جاسکیں۔فطرانہ کی شرح ایک صاع یعنی قریباً اڑھائی کلو غلہ یا اس کی قیمت ہے۔اگر کوئی پوری شرح سے فطرانہ کی ادائیگی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو نصف شرح سے بھی ادائیگی کر سکتا ہے۔فطرانہ کی ادائیگی ہر مسلمان مرد، عورت اور بچہ پر واجب ہے حتی کہ نوزائیدہ بچے کی طرف سے بھی یہ صدقہ ادا کیا جا نالا زمی ہے۔مذکورہ شرح یعنی ایک صاع غلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سال ملکی سطح پر ملکی کرنسی میں فطرانہ کی شرح مقرر کی جائے اور اس کے مطابق اس کی وصولی کی جائے۔فطرانہ کی کل رقم کا ۱۰ فیصد بطور سنٹرل ریز روالگ کیا جائے اور ۹۰ فیصد ملکی سطح پر تقسیم کیا جائے۔فطرانہ کی تقسیم کے بعد اگر کچھ رقم بچ جائے تو اسے مقامی اخراجات میں خرچ کرنے کی بجائے سنٹرل ریزرو میں جمع کروا دیا جائے۔--❖☆☀-- فدیہ کسی بیماری، معذوری یا سفر کے پیش آجانے کی بناء پر رمضان المبارک کے روزے نہ رکھ سکنے والوں کیلئے قرآن کریم میں حکم ہے کہ وہ اس نیکی سے محروم رہنے کے کفارہ کے طور پر نیز آئندہ روزے رکھنے کی توفیق پانے کیلئے فدیہ ادا کریں۔اس فدیہ کی مقدار اپنی حیثیت کے مطابق کسی مستحق کو ایک روزہ کے عوض دو وقت کا کھانا یا اس کی قیمت ادا کرنا ہے۔فدیہ کی ادائیگی کسی مستحق کو از خود بھی کی جاسکتی ہے اور اس کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق دو وقت کے کھانے کا اوسط خرچ نقد رقم کی صورت میں جماعتی نظام کے تحت سیکرٹری مال کے پاس جمع کروا دیا جائے۔فدیہ سے حاصل ہونے والی تمام آمد عمومی طور پر ملکی سطح پر خرچ ہوگی۔لیکن اگر کسی ملک میں اس کے خرچ کیلئے مستحق افراد نہ ملیں تو یہ رقم سنٹرل ریز رو میں جمع کروادی جائے۔