مالی قربانی ایک تعارف — Page 39
مالی قربانی 39 آمد کی تعریف ایک تعارف ())۔1 مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی مجموعی آمد کو آمد شمار کیا جائے گا۔ہر چندہ دہندہ شرط تقویٰ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اخلاص اور ضمیر کی کسوٹی پر با شرح چندہ ادا کرے گا۔مکان وغیرہ کے کرائے اور اس قسم کی متفرق چیزیں وضع کرنا جائز نہیں ہوگا۔البتہ پیشہ وارانہ فرائض منصبی کی ادائیگی کے ضمن میں سفروں کے دوران ملنے والے زاد راہ کو آمد سے مستی شمار کیا جائے گا۔سوائے اس کے کہ اس میں سے بچت پر اگر کوئی از خود چندہ ادا کرے تو مستحسن ہے۔(ب) اگر کوئی دوست چندہ کی ادائیگی یا شرح کے مطابق ادائیگی میں تنگی محسوس کریں تو وہ معین وجہ بیان کر کے امیر جماعت کے توسط سے خلیفہ وقت سے جزوی یا کلی معافی حاصل کر سکتے ہیں۔اجازت لے کر شرح سے کم چندہ دینے والے ووٹ دینے کے تو حقدار ر ہیں گے لیکن ذمہ دار عہدوں پر ان کی تقرری یا انتخاب سے پہلے مرکز سے اجازت لینی ضروری ہوگی۔یہ اس لئے کہ مبادا مالی کمزوری میں پیچھے رہنے والا عہد یدار دوسروں کے لئے غلط نمونہ نہ بن جائے۔نوٹ: اس معافی کا اطلاق چندہ وصیت پر نہیں ہوتا۔ایسی صورت میں کہ موصی شرح کے مطابق وصیت ادا نہ کر سکے اسے باامر مجبوری وصیت منسوخ کرالینی چاہئیے۔(ج) اگر جماعت کے علم میں کسی موصی کے متعلق کوئی ایسے قطعی شواہد آئیں جن سے غالب گمان ہو کہ چندہ دہندہ کا اپنے متعلق آمد کا فیصلہ غلط ہے اور بحیثیت موصی اس کا یہ فعل قابل گرفت ہے تو ایسے شخص کا معاملہ متعلقہ شواہد کے ساتھ مجلس کار پرداز میں برائے غور پیش کیا جائے نوٹ: - کم از کم آمد وصایا کی چھان بین تقاضہ کرتی ہے کہ ہر ملک کیلئے اس کم از کم آمدنی کی تعیین کی جائے جس پر اس ملک میں گزارہ ممکن ہے۔اس لئے وصایا کو منظوری کے لئے بھجواتے وقت اس کم از کم آمدنی کو مد نظر رکھا جائے۔(3) ایک خاندان کو حاصل ہونے والی آمد تنخواہ یا الا ونس اگر افراد خانہ کی تعداد پر منحصر ہوتی ہو یا سر براہ ، بیوی اور بچوں پر مشتمل ایک مقرر کردہ شرح یا فارمولا کے مطابق ادا کی جاتی ہو مثال کے